Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
2 - 112
مسئلہ۳ : ازریاست رام پور بلا سپوردروازہ مرسلہ شہزادہ میاں معرفت مولوی سید خواجہ احمد صاحب۱۴صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک اراضی تعدادی (۳لعہ /عگہ) پختہ کے چند اشخاص بذریعہ میراث بطور اشتراک مالک تھے اور اسی طرح چند روز تک مالک رہے، منجملہ اراضی مذکورہ کے (للعہ عگہ ۱۴بسوہ) پختہ اراضی پر منجانب سرکار قبضہ ۱۳۰۸ ؁ ف میں ہوگیا، یہ مقبوضہ اراضی سرکارہ وہ ہے کہ جس میں اشخاص مذکورہ بالا کے مورث نے بازار پینٹہ لگایا تھا، بعد ازاں اراضی مذکورہ مع اس اراضی پینٹہ والے کے ۱۳۱۴؁فصلی میں باہم تقسیم ہوگئی اور عملدرآمد سرکار میں بھی اس تقسیم کا ہوگیا اور حصص ہر ایک کے مشخص اور ممتاز ہوگئے ۔مثلاًزید کے حصے میں یہ اراضی مقبوضہ سرکار پینٹہ والی مع کچھ دیگر اراضی کے (جملہ لعہ ۴ عگہ) پختہ آئی اور سب شرکاء رضامند اس تقسیم  ہوگئے اور زید نے اور ایک بیگہ اراضی دیگر شرکاء سے منجملہ (ے۶) بیگہ پختہ کے خرید بھی لی بعد ان معاملات کے زید نے سرکار میں چارہ جوئی کی اورچاہا کہ سرکار اپنا قبضہ اراضی پینٹہ مذکور پر سے اٹھالے، سرکار نے قبضہ تو نہیں اٹھایا لیکن معاوضہ میں بجائے قبضہ اٹھانے کے دیگر اراضی دے دینے کا حکم دے دیا، اور سرکار کے قبضہ کو اس اراضی پر اٹھارہ سال ہوئے سترہ سال کے منافع کے بابت اندازہ ظاہر کرکے صرف مبلغ (۱لما للعہ ؎نقد ۸)دے دینے کا بھی حکم صادر فرمادیا۔ اب دیگر شرکاء زید جو ا سکے سابق میں شریک تھے وہ چاہتے ہیں کہ اس زر نقد سرکار کے عطیہ میں سے ہم کو بھی ملنا چاہئے، جس حاکم کے قبضہ میں وہ روپیہ ہے ان کی رائے ہے کہ روپیہ مذکورہ سترہ سال پر بانٹا جائے۔ جب سے کہ تقسیم ہوگئی ہے یعنی ۱۳۱۴؁ف لغایت ۱۳۲۵؁ فصلی، تو زید کو تنہا جائے، اور جتنے زمانہ تک اراضی مشترکہ یعنی از ابتداء لغایت ۱۳۱۳؁ف بلحاظ حصص شرکاء روپیہ تقسیم کیا جاوے، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اراضی پینٹہ والی اب سرکار میں خالص حق وملک زید کی قرار پائی ہے اور زید ہی نے کوشش کرکے معاوضہ کا حکم کرایا، اور سرکار سے روپیہ بھی تنہا زید ہی کو دے دینے کا حکم ہوا، ایسی صورت میں کیا زمانہ اشتراک کاعذر کرکے دیگر شرکاء بھی رقم مذکورہ میں سے لینے کے مستحق ہیں یا کیا؟امید کہ جواب صاف صاف بلارُو رعایت تحریر فرمایاجائے، بینواتوجروا۔
الجواب

حق کے سوا کسی کی رو رعایت خادمانِ شرع کاکام نہیں، اگر وہاں کچھ فتوٰی نویس اسکے عادی سمجھے ہوں تو سب کو ان پر قیاس نہ کیا جائے، وہ زمین اگرسب شرکاء کی طرف سے معد للاستغلال تھی اور ریاست کو اس کا علم تھا
کما فی الد ر عن الخیر الرملی
 (جیسا کہ درمختار میں خیرالدین رملی سے منقول ہے۔ت) یا اس کا ایسا ہونا عام طور پر معروف تھا
کما فی ردالمحتار ویؤیدہ مسألۃ الخان والحمام فی الاشباہ والدر
 (جیسا کہ ردالمحتار میں ہے جس کی تائید خانوت اور حمام والا مسئلہ کررہاہے جو اشباہ اور درمختار میں مذکور ہے۔ت) تو بلاشبہہ یہ معاوضہ تازمانہ شرکت حسب حصص سب شرکاء کا ہے،
لان الاعداد قائم مقام الایجاب والاخذمقام القبول فکانوا کلھم عاقدین فوجب الاجرلھم جمیعا۔
کیونکہ تیار کرنا ایجاب اور لینا قبول کے قائم مقام ہوتا ہے، تو یہ تمام لوگ عقد کرنے والے قرار پائینگے تو سب کے لئے معاوضہ واجب ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے یہ صورت کہ متصرف زید تھا اور وہ سب شرکاء کا کارکن، اور اس نے سب کے لئے اعداد کیا، 

فانہ اذن منھم جمیعا بحکم الاذن ولو فی ضمن العموم۔کیونکہ وہ ان سب کی طرف سے اجازت ہوگی اگرچہ اذن عموم کے ضمن میں پایا گیا۔(ت)
اور اگر اعداد سب کی طرف سے نہ تھا زید نے تنہا اپنے لئے کیا اور اس حالت میں ریاست نے اسے لیا اوراب یہ معاوضہ دیا تو اس کا مالک تنہا زید ہے،
لانہ ھوالعاقد والمنافع لاتتقوم الابالعقد فلاتکون الالہ کما فی الھندیۃ والخیریۃ والعقودالد ریۃ۔
کیونکہ وہ اکیلا ہی عاقد ہے جبکہ منافع صرف عقد سے قیمتی بنتے ہیں لہذا یہ صرف اسی کےلئے ہونگے جیسا کہ ہندیہ، خیریہ اور درر میں ہے(ت)
مگر تازمانہ شرکت بقدر حصص شرکاء زید کےلئے ملک خبیث ہے
لتصرف فی ملک غیرہ
 (غیر کی ملکیت میں تصرف کی وجہ سے) اس پر لازم ہے کہ اس قدر تصدق کرے یا شرکا کو دے اور یہی اولٰی ہے
کما فی الخیریۃ

وغیرھا
 (جیسا کہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت) اور ان کے لئے طیب ہوگا
لانہ نماء ملکھم
(کیونکہ یہ ان کی ملکیت میں اضافہ ہوا ہے۔ت) اور اگر معدللاستغلال نہ تھی تو کسی شریک کے لئے کوئی معاوضہ ریاست کے ذمے نہ آیا
لعدم الاجارۃ صراحۃ ولادلالۃ
 (اس لئے کہ اجارہ نہ صراحۃً ہے نہ دلالۃً۔ت) جو کچھ دیا وہ محض ہبہ وعطیہ ہے جسے دیا تنہا اسی کاکام ہے اور تمام وکمال اس کے لئے طیب وحلال ہے،
لانہ لیس عوضا من مشترک حتی یحتمل اشتراک الشرکاء فیہ۔
یہ مشترکہ چیز کا معاوضہ نہیں تاکہ اس میں شرکاء حضرات کی شرکت کااحتمال ہو۔(ت)
مگر یہ کہ شرکاء میں کوئی یتیم ہوتو البتہ اس کے حصے کے قابل بعد اخذ ریاست تاانتہائے شرکت جتنے دنوں وہ نابالغ رہا ہو اس قد ر کاحصہ اس یتیم کو دینا واجب ہے،
لانہ منافع مالہ کمنافع الوقف مضمونۃ بالاستھلاک بلاشرط الاعداد کما فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔
کیونکہ یتیم کے مال کے منافع وقف کے منافع کی طرح ہلاک کرنے پر مضمون ہوجاتے ہیں اگرچہ یہ شرط نہ کی گئی ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ مشہور کتب میں ہے(ت)
یہ استثناء صورت ثانیہ میں بھی جاری ہوگا اور قدر حصہ یتیم میں زید تصدق کا اختیار نہ رکھے گا بلکہ یتیم ہی کو دینا واجب،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴ تا ۱۰: ازبنارس مسجد چوک کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان ۲۲جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس میں کہ خالد کے پانچ پسر، زید،بکر، حامد، جعفر اور تین دختر ہیں، خالد نے مکان مسکونہ بنوایا۔ زید، بکر، عمروجنکی شادی ہوگئی تھی اور بالغ تھے کچھ روپے سے اس کی تعمیر میں خالد کے شریک ہوئے۔ چند سال بعد خالد نے اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقو لہ، مکانات واسباب دکانداری وغیرہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کیا اور یہ مکان مسکونہ بھی اس ہبہ نامہ میں درج ہوا، ہبہ نامہ کی تحریر کے بعد تین سال تک خالد زندہ رہا مگر جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر جس کو وہ ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود قابض رہا۔ خالد کی حیات میں زید، بکر، عمرو، حامد واسطے خوردونوش کے فی کس پانچ روپے دیتا تھا اورسبھوں کا کھانا یکجائی پکتا۔ جعفر صغیر سن تھا اسی وجہ سے شریک نہ تھا،ہر پسر اپنی اپنی آمدنی علیحدہ اپنے پاس رکھتا تھا اور امور خانگی میں خود خرچ کرتا تھا، صرف کھانا یکجائی تھا، بعد انتقال خالد ہندہ کے زمانہ میں بھی خوردونوش کا ایسا ہی انتظام رہا، اور دکان بلا فہرست اسباب عمرو کے سپرد ہوئی اس شرط پر کہ وہ ایک آنہ ۱/فی روپیہ دستوری لے لیا کرے جب مال فروخت ہو، اور وہ حساب کتاب بھی لکھتا رہے۔
تھوڑے دنوں تک عمرو نے حساب کتا ب لکھا مگر پھر خود ہی بند کردیا۔ بعد وفات خالد ہندہ کے حیات میں

مکان مسکونہ میں تعمیر مزید کی ضرورت  ہوئی اور حامد نے کام شروع ہونے میں روپیہ دیا، روپے کی کمی عمرو پوری کرتا تھا جن کے تعلق دکان تھی اور اپنی انگریزی پہری بھی پہرتا تھا مگر آمدنی دونوں کی یکجا رکھتا تھا اس اثناء میں خاص اپنا روپیہ لگا کر زید نے اپنے لئے بنگلہ ا س مکان مسکونہ میں اپنے روپے سے بنوایا جو اب تک قائم ہے ہندہ کے انتقال کے بعد حامد نے ایک بنگلہ اپنے واسطے اس مکان مسکونہ میں اپنے روپے سے بنوایا، اور یہ اس روپے کے علاوہ ہے جو کہ حامدنے تعمیر مزید کے شروع کرنے میں دیا تھا، دیگر یہ کہ زید کی وفات کے بعد اس کی بیوہ کو دو آنہ فی یوم اب تک دکان سے جو عمرو کے متعلق ہے ملتا ہے۔ اور عمرو کا بیان ہے کہ دکان کے ذمہ قرض بھی ہے مگر خالد وہندہ نے کوئی قرضہ نہیں لیا تھا اب وارثان خالد وہندہ میں نزاع درپیش ہے مکان مسکونہ کس طور پر تقسیم ہوگا؟
(۱) آیا زید وبکر وعمرو کا روپیہ جو حیات خالد وہندہ میں لگا ہے مجراہوگایانہیں؟

(۲) حامد کا روپیہ اور زید کا بنگلہ جس کا وقوع بعد انتقال خالد مگر ہندہ کی حیات میں ہوا ہے مجرا ہوگا یانہیں؟

(۳) حامد کا بنگلہ جو بعد وفات خالد وہندہ کے تعمیر ہوا مجرا ہوگایانہیں؟

(۴) دختروں کو مکان مسکونہ میں کس قدر حصہ پہنچ سکتا ہے صرف اس قدر مکان میں جو خالد کے انتقال کے وقت تھا یانئی تعمیر سے لے کر؟

(۵) عمرو کی دکان کا حساب نہ لکھنے پر کوئی الزام اس پر آسکتا ہے یانہیں؟

(۶) زید کے بیوہ کو دو آنہ ۲/فی یوم جو دکان سے ملتا ہے واپس ہوگا یانہیں؟

(۷) عمرو کو جو قرضہ دکان مجرا ہوگایانہیں؟فقط بینواتوجروا۔
الجواب
جواب سوال اول: ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلاً ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلاً کہے میں نے قرضاً دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامتِ بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیں،
مداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے:
القول قول الرافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع۱؎۔
دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(ت)
 (۱؎ العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ     کتاب المداینات     القول قول الرافع الخ    ارگ بازار قندھار افغانستان    ۲/ ۲۴۴)
فتاوٰی قاضی خان کتاب النکاح میں ہے :
دفع الٰی غیرہ دراھم فانفقھا وقال صاحب الدراھم اقرضتکھا وقال القابض لابل وھبتنی کان القول قول صاحب الدراھم۱؎۔
ایک نے دوسرے کو کچھ درہم دئے تو اس نے لے کر خرچ کرلئے، دراہم دینے والے نے کہا میں نے تجھے قرض دئے تھے اور لینے والا کہتا ہے نہیں بلکہ تو نے مجھے ہبہ دیا ہے،تو دینے والے کی بات معتبر ہوگی(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب النکاح    فصل فی حبس المرأۃ نفسہا بالمہر     نولکشور لکھنؤ     ۱/ ۱۷۸)
جامع الفصولین فصل رابع وثلثین میں ہے:
صدق الدافع بیمینہ لانہ مملک۲؎۔
دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)
 (۲ ؎ جامع الفصولین  فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۲۱۷)
وہیں ہے:
دفع الٰی ابنہ مالافاراداخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانہ مملک۳؎۔
بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو قرض کے طور پر دینا مانا جائے گا کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)
 (۳ ؎ جامع الفصولین فصل ۳۴   اسلامی کتب خانہ کراچی۲/ ۲۱۷)
وہیں ہے:
یصدق المملک لانہ اعرف فقول العالم اولٰی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا۴؎۔
مالک بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولٰی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الّایہ کہ عرف اس کو جھوٹا قرار دے(ت)
(۴ ؎ جامع الفصولین     فصل ۳۴  اسلامی کتب  خانہ کراچی     ۲/ ۲۱۷)
ہدایہ میں ہے:
(من بعث الٰی امرأتہ شیئا فقالت ھوھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول قولہ) لانہ ھوالمملک فکان اعرف بجہۃ التملیک کیف وان الظاھر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الا فی الطعام الذی یؤکل) فان القول قولھا  او المراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ۱؎الخ۔
جس نے بیوی کو کوئی چیز بھیجی تو بیوی نے کہا یہ ہدیہ ہے اور خاوند نے کہا یہ مہر میں شمار ہے، توخاوند کی بات معتبر ہے کیونکہ وہ مالک بنانے والا ہے تو وہی تملیک کی وجہ کو بہتر جانتا ہے اس کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ظاہریہ ہے کہ خاوند اپنے ذمہ واجب کی ادائیگی میں کوشاں ہے ہاں کھائی جانیوالی چیز میں یہ بات ظاہر نہیں کیونکہ اس میں بیوی کی بات معتبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز کھانے کے لئے مہیا کی گئی ہو کیونکہ عرفاً ایسی چیز ہدیہ قرار پاتی ہے الخ(ت)
(۱؎ الہدایۃ     کتاب النکاح     باب المہر    المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۲/ ۳۱۷)
فتح القدیر
 میں ہے:
والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیعہ ماذکر من الحنطۃ واللوز والدقیق والسکر والشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیہا قول المرأۃ لان المتعارف فی ذٰلک کلہ ارسالہ ھدیۃ فالظاھر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الافی نحوالثیاب والجاریۃ۲؎۔
ہمارے دیار میں گندم، بادام، آٹا، شکر، زندہ بکری، اس کا گوشت وغیرہ مذکور ہ تمام اشیاء میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ عرف میں ان تمام چیزوں کو ہدیہ کے طور پر ارسال کیا جاتا ہے اس لئے ظاہر عورت کی تائید کرتا ہے نہ کہ مرد کی، خاوند کی بات صرف کپڑوں اور لونڈی وغیرہ جیسی چیزوں میں معتبر ہوتی ہے(ت)
(۲؎ فتح القدیر     باب المہر     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/ ۲۵۶)
نہر الفائق میں ہے:
وینبغی ان لایقبل قولہ ایضافی الثیاب المحمولۃ مع السکرونحوہ للعرف۳؎
مناسب ہے کہ خاوند کی بات شکر وغیرہ کے ساتھ ارسال کئے گئے کپڑوں میں معتبرنہ ہوکیونکہ عرف یہی ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار بحوالہ النہر الفائق     کتاب النکاح     باب المہر     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۶۴)
حاشیہ ابی السعود الازھری علی الکنز میں ہے:
ینبغی ان یکون القول لھا فی غیرالنقود للعرف المستمر۴؎۔
مناسب ہے کہ نقود کے غیر میں بیوی کی بات معتبر ہو کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے(ت)
 (۴؎ فتح المعین علٰی شرح الکنز لملا مسکین کتاب النکاح     باب المہر   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۷۰)
ردالمحتار میں ہے:
کذامایعطیھا من ذٰلک اومن دراھم اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبیحۃ فان کل ذٰلک تعورف فی زمانھا کونہ ھدیۃ۱؎۔
یونہی شب زفاف کی صبح کو جو درہم یا دینار دئے جاتے ہیں ان کو عرف میں صبحہ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ ہدیہ ہونے پر عرف بن چکا ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب النکاح    باب المہر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۶۴)
پس صورت مستفسرہ میں اگر صراحۃً ثابت ہے کہ  زید وعمرووبکر نے یہ روپیہ اپنے باپ کو قرضاً دیا تھا تو ضرور واپس ہوگا، یاصراحۃً ثابت ہوکہ بطور حسن سلوک وخدمت پدر ہبۃً دیا تھا تو ہر گز واپس نہیں ہوسکتا
لتحقق موانع عدیدۃ للرجوع
 (رجوع کرنے میں متعدد موانع پائے جانے کی وجہ سے۔ت) یا ان کے یہاں معمول قدیم رہا ہوکہ جب کبھی ایسے صرف کی باپ کو ضرورت ہوئی ہے بیٹے اس کے شریک ہوئے ہیں اور وہ شرکت ہمیشہ بے قصد واپسی رہی ہے تو قول بقیہ ورثہ کا معتبر ہوگا کہ یہ دینا بھی اسی طرح تھاقرض نہ تھا دینے والے اگر مدعی ہوں کہ اس بارہم نے قرضاً دیا تھا تو ازانجا کہ ان کا وہ عرف باہمی اس دعوے کے خلاف ہے بارِ ثبوت ان کے ذمہ ہے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
قدقال العلامۃ فی الاسرار امر رجلابان یعمل لہ عمل کذاولم ینطقا شیئا فی الاجر وعدمہ ان کان العامل من قبل ممن یعمل لہ او للناس مثل ھذاالعمل بغیر اجر کان متبرعا۲؎۔
علامہ نے اسرار میں فرمایا ایک شخص نے دوسرے کو کوئی کام کرنے کو کہا اور اس پر انہوں نے معاوضہ ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا تو اگر کام کرنے والا قبل ازیں اس شخص کا کام بغیر اجرت کرتا رہتا ہے یادوسرے لوگوں کا کام بلااجرت کرتا رہتا ہے تو مفت شمار ہوگا۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الخیریۃ     کتاب الاجارہ     دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۳۳)
اور اگر سب کچھ نہ ہوتو عمرو بکر خود اور زید کے وارثوں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ یہ دینا بطور ہبہ نہ تھا مگر عمرو بکر کہ زندہ ہیں قطعی قسم کھائیں گے اور وارثان زید اپنے علم پر یعنی واﷲ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے مورث زید نے یہ روپیہ اپنے باپ خالد کو ہبۃً دیاتھا،
کماعرف من الحکم فی الیمین علی فعل الغیر فانھا انما تکون علی العلم لامع البتات۔
جیسا کہ کسی دوسرے شخص کے کام کرنے کے متعلق قسم میں معلوم ہوچکا ہے کہ وہ حکم علم پر مبنی ہوتا ہے مطلقاً قطعی نہیں ہوتا۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
ۤالوارث یصدق ان الاب اعطاہ بجہۃ الدین لقیامہ مقام مورثہ فیصدق فی جھۃ التملیک۱؎۔
وارث کی یہ بات تسلیم کرلی جائے گی کہ والد نے فلان کو چیز بطور قرض دی تھی کیونکہ وارث اپنے مورث کے قائم مقام ہوجاتا ہے اس لئے تملیک کی وجہ میں اس کی تصدیق کی جائے گی۔(ت)
اس صورت میں اگر بقیہ ورثہ خالد مدعی ہبہ ہوں گواہ دیں واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ جامع الفصولین     فصل۳۴    اسلامی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۲۱۷)
Flag Counter